ابنا: مجلس وحدت مسلمین لاہور کے رہنماؤں کا اہم اجلاس صوبائی سیکرٹریٹ مسلم ٹاؤن میں منعقد ہوا، جس میں سانحہ پشاور اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ پر پنجاب میں احتجاجی مظاہروں کے شیڈول پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اجلاس کی صدارت سیکرٹری جنرل پنجاب علامہ عبدالخالق اسدی نے کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں جاری شیعہ نسل کشی پر موجودہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی، لہٰذا احتجاجی مظاہروں کو وسعت دینے کی تجاویز شوریٰ عالی کو بھیج دی جائے۔ اجلاس میں کل ہونے والے احتجاج اور علامتی دھرنے کی انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا اور انتظامات کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ ملک میں جاری دہشت گردی سے حکمرانوں کی بے بسی کھل کر سامنے آگئی، دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں بلکہ معصوم محب وطن شہریوں کے قاتلوں کو پھانسی دے دی جانی چائیے، جب تک ملکی سلامتی کے ادارے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائیں گے، حالات ایسے ہی رہیں گے۔اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کل پنجاب کے مختلف اضلاع میں مظاہرے کئے جائیں گے۔ سانحہ پشاور پی ٹی آئی کی حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس ہے، اس سانحے کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات سے نیا پاکستان کا منشور رکھنے والی جماعت کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔ رہنماؤں نے ملت سے اپیل کی ہے کہ اتوار کو ہونے والے احتجاج اور دھرنے میں جوق در جوق شریک ہوں۔ یاد رہے کہ مجلس وحدت نے اتوار 23 جون کو لاہور پریس کلب کے باہر احتجاج اور علامتی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔......./169
22 جون 2013 - 19:30
News ID: 432730
آج 23 جون کو لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اور مظاہرے کے بعد علامتی دھرنا دیا جائے گا، احتجاج کے حوالے سے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔